آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان سے قبل 51 شرائط پوری، باقی پر عملدرآمد جاری — عوام پر اثرات کیا ہوں گے؟

 




اسلام آباد: (سحر نامہ خصوصی رپورٹ)

پاکستان نے آئی ایم ایف کے وفد کے دورہ سے قبل مجموعی طور پر 51 شرائط پر عملدرآمد مکمل کر لیا ہے جبکہ بعض اہم شرائط پر کام جاری ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ان شرائط میں زیادہ تر کا تعلق مالی نظم و ضبط، ٹیکس وصولی اور توانائی اصلاحات سے ہے۔

ادھوری شرائط اور پیشگی اجازت

وزارت خزانہ کے مطابق ایسی شرائط جن پر فوری طور پر عمل ممکن نہیں تھا، ان کے لئے آئی ایم ایف سے پیشگی اجازت حاصل کر لی گئی ہے۔ تاہم صوبائی حکومتیں 1.2 ٹریلین روپے کے کیش سرپلس کا ہدف پورا نہ کر سکیں، جسے پروگرام کی بڑی رکاوٹ تصور کیا جا رہا ہے۔

عوام پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرائط کی تکمیل سے وقتی طور پر معاشی استحکام کے آثار تو پیدا ہوں گے، مگر اس کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

  • مہنگائی میں اضافہ: بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
  • ٹیکس کا دباؤ: نئے ٹیکس اقدامات اور موجودہ محصولات میں اضافے سے کاروباری طبقہ اور عام شہری دونوں متاثر ہوں گے۔
  • روزگار کے مسائل: توانائی کی بڑھتی لاگت صنعتوں پر دباؤ ڈالے گی، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • سماجی اثرات: بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

حکومتی امیدیں

وزارت خزانہ کو امید ہے کہ شرائط پر عملدرآمد کے بعد آئی ایم ایف سے اگلی قسط بروقت مل جائے گی، جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنسی مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔ حکومتی مؤقف ہے کہ یہ مشکل فیصلے وقتی ہیں اور مستقبل میں معیشت کو سنبھالا دینے کا سبب بنیں گے۔



ایک تبصرہ شائع کریں

خوش آمدید سحر نامہ

جدید تر اس سے پرانی

سلسلہ وار خبریں