فائل فوٹو،
غزہ (سحر نامہ رپورٹ) اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ صہیونی فوج کے ترجمان کے مطابق آپریشن کا مقصد ’’حماس کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنا‘‘ ہے، تاہم مقامی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں عام شہریوں کے لیے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا باعث بن رہی ہیں۔
فائل فوٹو،
فضائی بمباری اور جانی نقصان
تازہ فضائی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 13 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتالوں اور امدادی اداروں نے شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ فضائی حملوں میں اضافہ ہونے سے انسانی المیہ مزید گہرا ہوگا۔
فائل فوٹو ،
عالمی ردعمل
- اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور دیا ہے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ’’بچوں اور خواتین کا قتل کسی صورت قابلِ قبول نہیں‘‘۔
- او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) نے اسرائیلی کارروائیوں کو ’’کھلا دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک سے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ غزہ میں جاری محاصرے اور حملوں کے باعث لاکھوں شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، بھوک، خوف اور صحت کی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔
- مختلف ممالک بشمول ترکی، ایران اور قطر نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
صورتحال کا خدشہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زمینی کارروائی کے آغاز سے نہ صرف غزہ میں انسانی بحران مزید بڑھے گا بلکہ خطے میں کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔


