تحریر: وقار مصطفیٰ (سحر نامہ کے لیے خصوصی فیچر)
تاریخ: 11 ستمبر 2025
لاہور کی پرانی آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتی، راوی دریا کی جانب جاتی سڑک پر بھاٹی چوک سے کچھ ہی فاصلے پر پیر مکی کے علاقے میں اساطیری شہ زور بھولو پہلوان کا اکھاڑا ہے۔ اسی اکھاڑے میں ان کی اپنی قبر ہے، ان کے پہلوان بھائی مدفون ہیں اور ایک بلند چبوترے پر بھتیجے محمد زبیر عرف جھارا پہلوان کی آخری آرام گاہ موجود ہے۔ کتبے پر تاریخِ وفات 10 ستمبر 1991 درج ہے۔
یعنی آج ہی کے دن کو جھارا کو دنیا سے رخصت ہوئے 34 برس مکمل ہو گئے۔ پروفیسر محمد اسلم کی کتاب خفتگانِ خاکِ لاہور کے مطابق جھارا کی وفات کے وقت اخبارات نے ان کی عمر 31 سال لکھی تھی۔
جھارا کی قبر سے مغرب کی سمت چند قدم کے فاصلے پر اُن کے چچا محمد اکرم عرف اَکی پہلوان مدفون ہیں، جنہیں 1976 میں جاپانی پہلوان انتونیو انوکی سے شکست ہوئی تھی۔ یہ وہی شکست تھی جس کا بدلہ لینے کا عزم جھارا نے کم عمری ہی میں کر لیا تھا۔ اُس وقت جھارا کی عمر صرف 16 برس تھی۔
پہلوانی تحقیق کے مطابق جھارا "اصیل بوٹی" تھے، یعنی اُن کے والد اور والدہ دونوں ہی پہلوانی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔
محمد زبیر عرف جھارا پہلوان 24 ستمبر 1960 کو لاہور میں رستمِ پنجاب اور رستمِ ایشیا محمد اسلم عرف اچھا پہلوان کے گھر پیدا ہوئے۔ اُن کے تایا منظور حسین عرف بھولو پہلوان رستمِ زماں تھے۔ دیگر چچا اعظم پہلوان، اکرم پہلوان، حسو پہلوان اور معظم عرف گوگا پہلوان تھے۔ جھارا کا تعلق عظیم پہلوانی ورثے سے تھا۔ وہ رستم زماں گاما پہلوان کے بھائی رستمِ ہند امام بخش کے پوتے اور گاما کلو والا پہلوان کے نواسے تھے۔
✨ یہ فیچر "سحر نامہ" کے قارئین کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ جھارا پہلوان جیسے تاریخی کرداروں کو یاد رکھا جا سکے۔

